اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینیٹ کو بتایا گیا ہے کہ علی جہانگیر صدیقی کی امریکہ میں بطور سفیر تعیناتی میں کوئی قانونی اور آئینی قدغن حائل نہیں، ماضی میں بھی وزارت خارجہ کے افسران سے ہٹ کر مختلف ممالک میں سفراء تعینات ہوتے رہے ہیں، وزیراعظم کی نجی دورہ کے دوران تلاشی میں کوئی مضائقہ نہیں، اس سے عزت میں کوئی فرق نہیں آتا،موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے پاکستان کو اربوں ڈالر کا سالانہ نقصان ہو رہا ہے، درختوں کی کٹائی روکنے اور جنگلات میںاضافے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے، موجودہ حکومت نے کمیونٹی سکولوں کے اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ کیا ہے، یہ اساتذہ عارضی انتظام کے تحت کام کر رہے ہیں۔ انہیں مستقل نہیں کیا جا سکتا۔بدھ کو سینیٹ کے اجلاس میں سینیٹر ثمینہ سعید کے نکتہ ء اعتراض کے جواب میں وزیر خارجہ خواجہ محمدآصف نے کہا ہے کہ پاکستان میں سفراء کی تعیناتی کے ئے پارلیمنٹ اور پارلیمانی کمیٹیوں سے اجازت لینے کے حوالے سے آئین میں کوئی قدغن نہیں ہے، اگر ایسی اجازت لینی ہے تو اس کیلئے آئین میں ترمیم کرنا پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں چار ہزار سے زائد تقرریاں سینیٹ کی منظوری سے ہوتی ہیں تاہم پاکستان میں ایگزیکٹو کو سفراء تعینات کرنے کا اختیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ علی جہانگیر صدیقی کیخلاف اس وقت نیب میں کوئی کیس نہیں ہے اور نہ ہی انہیں کوئی سزا ہوئی ہے، صرف ایک انکوائری چل رہی ہے، اسی طرح نیب میں مختلف سیاستدانوں کے خلاف انکوائریاں ہو رہی ہیں اور مقدمات بھی ہیں، اگر کسی کو سزا ہو جائے تو پھر کسی کی تقرری رک سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام تقرریاں اگر پارلیمنٹ اور پارلیمانی کمیٹیوں کی منظوری سے کرنے کیلئے آئین میں ترمیم ہو جائے تو یہ بھی جمہوریت کے استحکام کی طرف ایک قدم ہوگا تاہم اس کے لئے آئین میں ترمیم کرنا پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نجی دورہ پر امریکہ گئے تھے اوراس سے پہلے برطانیہ کا بھی انہوں نے نجی

دورہ کیا اور ٹرین کے ذریعے سفر کیا۔ یہ ایک اچھی مثال ہے کہ وزیراعظم نے پروٹوکول نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی حیثیت میں کسی کی تلاشی میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اس سے عزت میں بھی کوئی فرق نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ سفیروں کی تعیناتی کے لئے 20 فیصد کوٹہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی وزارت خارجہ کے افسران سے ہٹ کر امریکہ میں پاک فوج کے ریٹائرڈ افسران، سیاستدانوں اور کاروباری شخصیات سے سفراء تعینات ہوتے رہے ہیں۔سینیٹر ثناء جمالی کے نکتہ ء اعتراض کے جواب میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مشاہد اﷲ خان نے کہا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے ماحول پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں جس پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات محسوس کئے جا رہے ہیں اور زراعت اور دیگر شعبوں پر اس کا اثر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچنے کے لئے جنگلات میں اضافہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہدرختوں کی کٹائی روکنے اور جنگلات میں اضافے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔اجلاس کے دوران سینیٹر ہدایت اللہ کے توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں وزیر برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت انجینئر بلیغ الرحمن نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے کمیونٹی سکولوں کے اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ کیا ہے،انہوں نے کہا کہ 2013ء میں کمیونٹی سکولوں کے اساتذہ کا اعزازیہ 2800 روپے تھا۔ جولائی 2013ء میں اسے بڑھا کر پانچ ہزار روپے کر دیا گیا اور جولائی 2017ء سے اب انہیں 8 ہزار روپے اعزازیہ مل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کمیونٹی سکولوں کے اساتذہ عارضی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں اس لئے انہیں مستقل نہیں کیا جا سکتا۔اجلاس میں سینیٹر مولانا عطاء الرحمان نے قرارداد پیش کی کہ یہ ایوان افغانستان کے شہر قندوز کے علاقے دشت میں دینی مدرسہ پر امریکی بمباری کی شدید مذمت کرتا ہے جس میں 250 سے 300 حفاظ شہید ہوئے ۔ انہوں نے کہاکہ ایوان افغانستان کے مسلمانوں اور حفاظ کرام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ سینیٹ کی جانب سے قرارداد کی منظوری دیدی گئی۔بعد ازاں سینیٹ کا اجلاس (آج) جمعرات کی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

Posted in kt

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *