لاہور (اُردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین – 10 نومبر 2020ء) مسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ شہباز نے جیل میں گزرے شب و روز کی داستان سنادی ، ان کا کہنا ہے کہ جیل میں جیسے رہا ہوں میرا اللہ جانتا ہے ، کورونا وائرس کے دوران اپنی مدد آپ کے تحت دوائی لیتا تھا۔ تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت لاہور میں رمضان شوگر ملز ریفرنس کی سماعت میں پنجاب اسمبلی کے قائد حزب اختلاف نے استدعا کی کہ وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں جس پر عدالت کی طرف سے انہیں بات کرنے کی اجازت مل گئی ، مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا کہ کورونا کا شکار ہونے پر بھی جیل میں جیسے میں رہا ہوں یہ صرف میرا اللہ ہی جانتا ہے ، اس دوران میں خود اپنی مدد آپ کے تحت دوائی لیتا تھا ، جب کہ ملک کا وزیراعظم منہ پر ہاتھ مار کر کہتا ہے کہ میں اب دیکھ لوں گا ، اس کے جواب میں احتساب عدالت کے جج نے حمزہ شہباز کو ہدایت کی کہ یہاں سیاسی بات نہ کریں بلکہ اپنی صفائی میں اگر کچھ بھی کہنا ہے تو کہیں۔حمزہ شہباز شریف نے مزید کہا کہ 17 ماہ سے عدالتوں میں پیش ہو رہا ہوں ، اس دوران بلٹ پروف گاڑی میں لایا جاتا رہا ، لیکن اچانک سے ایک دن بکتربند گاڑی لے کر آگئے ، گزشتہ پیشی کے لیے انکار نہیں کیا تھا بلکہ بروقت جیل کے باہر نکل آیا تھا لیکن پولیس افسران جان بوجھ کر میرے لیے بکتر بند گاڑی لے آئے ، حالاں کہ سب کو علم ہے کہ میری کمر میں شدید تکلیف ہے ، میں وہاں گاڑی کے لیے ڈھائی گھنٹے تک انتظار کرتا رہا اس دوران پولیس والوں سے کہا کہ گاڑی تبدیل کرلیں اور مجھے عدالت لے جائیں چلیں۔یاد رہے کہ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف کو کورونا ہوگیا تھا ، کورونا ٹیسٹ مثبت آنے سے ایک دن پہلے حمزہ شہباز نے اپنے والد شہبازشریف سے بھی ملاقات کی تھی ، تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف نے بتایا تھا کہ ان کے بیٹے حمزہ شہبازکو جیل میں کورونا ہوگیا اور وہ سیاسی انتقام کا انتہائی جرات مندی سے سامنا کر رہا ہے ۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ حمزہ شہباز مشرف دور کے بعد نیب نیازی گٹھ جوڑ کا سامنا کررہا ہے ، حمزہ شہباز گزشتہ تین روز سے شدید بخار میں مبتلا ہیں ، بگڑتی ہوئی صحت کو دیکھتے ہوئے انہیں کوٹ لکھپت جیل سے فوری اسپتال منتقل کیا جائے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *